حیات شمع کی صورت پگھلتی جاتی ہے
شبیں گزرتی ہیں اور عمر ڈھلتی جاتی ہے
ابھی تو ہجر کا یہ پہلا سنگِ میل ہوا
یہ رہگزر تو بہت دور چلتی جاتی ہے
ان آندھیوں میں سلامت نہیں کسی کا چراغ
اک اپنی شمعِ وفا ہے کہ جلتی جاتی ہے
شبِ فراق کی وحشت ہے اور یہ عالمِ دل
کہ بے جواز طبیعت سنبھلتی جاتی ہے
ہر اختتامِ سفر پہ افق کے دامن سے
کوئی نہ کوئی نئی رہ نکلتی جاتی ہے
اترتی جاتی ہے سانسوں میں روشنی کی مہک
مِرے لہو میں مِری رات ڈھلتی جاتی ہے
اعتبار ساجد
سید اعتبار حسین ساجد اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے انا للہ و انا الیہ راجعون، اللّہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔
No comments:
Post a Comment