Thursday, 15 January 2026

کہا تھا اس نے مجھ کو سوچنا مہنگا پڑے گا

 کہا تھا اس نے مجھ کو سوچنا مہنگا پڑے گا

محبت میں یہی اک مرحلہ مہنگا پڑے گا

کہانی اور کرداروں کو تم اک ساتھ رکھنا

کہیں کچھ رہ گیا جو فاصلہ مہنگا پڑے گا

تعلق توڑنے کا سلسلہ اچھا نہیں ہے

تجھے اس دشمنی کا فیصلہ مہنگا پڑے گا

مجھے تاروں پہ چلنے کا ہنر آتا ہے لیکن

تجھے چلنا پڑا تو تجربہ مہنگا پڑے گا

سلیم آنکھوں میں جگراتا ہے یا پھر ہجر اس کا

کبھی سوچا نہیں تھا، سوچنا مہنگا پڑے گا


اشرف سلیم

No comments:

Post a Comment