کہا تھا اس نے مجھ کو سوچنا مہنگا پڑے گا
محبت میں یہی اک مرحلہ مہنگا پڑے گا
کہانی اور کرداروں کو تم اک ساتھ رکھنا
کہیں کچھ رہ گیا جو فاصلہ مہنگا پڑے گا
تعلق توڑنے کا سلسلہ اچھا نہیں ہے
تجھے اس دشمنی کا فیصلہ مہنگا پڑے گا
مجھے تاروں پہ چلنے کا ہنر آتا ہے لیکن
تجھے چلنا پڑا تو تجربہ مہنگا پڑے گا
سلیم آنکھوں میں جگراتا ہے یا پھر ہجر اس کا
کبھی سوچا نہیں تھا، سوچنا مہنگا پڑے گا
اشرف سلیم
No comments:
Post a Comment