Thursday, 22 January 2026

زندگی کو اڑان میں رکھنا

 زندگی کو اڑان میں رکھنا

خواہ کچے مکان میں رکھنا

اپنی منزل دھیان میں رکھنا

اِک توازن اُڑان میں رکھنا

جس میں رقصاں ہوں سوچ کے جگنو

وہ خلا داستان میں رکھنا

کتنا ہی قُرب کیوں نہ ہو پھر بھی

فاصلہ درمیان میں رکھنا

چند انسانیت کے گملے بھی

اپنی کوٹھی کے لان میں رکھنا

بیچنا ہے ضمیر ہی تو اِسے

کسی اچھی دکان میں رکھنا

جس کا ممکن نہ ہو جواب کوئی

وہ سوال امتحان میں رکھنا

عصبیت کے خلاف ٹھوس قدم

پنچ سالہ پلان میں رکھنا

سعئ پیہم ، سُراغِ منزل

زندگی کو تکان میں رکھنا

لوگ ہوجائیں آپ گرویدہ

لوچ اتنا زبان میں رکھنا

یہ بھی ٹھنڈک کی مستحق ہو اگر

دھوپ کو سائبان میں رکھنا

سر سے اونچا ہو کتنا ہی پانی

زندگی کو ڈھلان میں رکھنا

خواہ وہ نظم ہو کہ نثر حباب

اک روانی بیان میں رکھنا​


سید حباب ترمذی

No comments:

Post a Comment