کسی صورت لب و لہجہ کی ویرانی نہیں جاتی
غزل سے زندگی کی مرثیہ خوانی نہیں جاتی
ہمارے گھر سے رخصت ہو گئی اجداد کی شوکت
ہماری گُفتگو سے بُوئے سُلطانی نہیں جاتی
صدائیں دے رہی ہیں دیر سے خُوش بختیاں لیکن
نکل کر خواب گاہوں سے تن آسانی نہیں جاتی
ہمیں جکڑے ہوئے ہیں مصلحت اندیشیاں ایسی
مزاجوں سے حریفوں کی ثناء خوانی نہیں جاتی
گِراں بے حد گِراں ہیں نِرخ بازارِ عقیدت کے
جبینوں سے مگر سجدوں کی ارزانی نہیں جاتی
ندیم عرشی
No comments:
Post a Comment