Saturday, 31 January 2026

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

سینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو

گر وقت اجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو

جتنی ہو قضا ایک ہی سجدے میں ادا ہو

دیکھا انہیں محشر میں تو رحمت نے پکارا

آزاد ہے جو آپﷺ کے دامن سے بندھا ہو

آتا ہے فقیروں پہ انہیں پیار کچھ ایسا

خود بھیک دیں اور خود کہیں منگتوں کا بھلا ہو

فردوس کے باغوں سے ادھر مل نہیں سکتا

جو کوئی مدینہ کے بیاباں میں گما ہو

دے ڈالیے اپنے لب جاں بخش کا صدقہ

اے چارۂ دل! دردِ حسن کی بھی دوا ہو


حسن رضا بریلوی

No comments:

Post a Comment