عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو
گر وقت اجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو
جتنی ہو قضا ایک ہی سجدے میں ادا ہو
دیکھا انہیں محشر میں تو رحمت نے پکارا
آزاد ہے جو آپﷺ کے دامن سے بندھا ہو
آتا ہے فقیروں پہ انہیں پیار کچھ ایسا
خود بھیک دیں اور خود کہیں منگتوں کا بھلا ہو
فردوس کے باغوں سے ادھر مل نہیں سکتا
جو کوئی مدینہ کے بیاباں میں گما ہو
دے ڈالیے اپنے لب جاں بخش کا صدقہ
اے چارۂ دل! دردِ حسن کی بھی دوا ہو
حسن رضا بریلوی
No comments:
Post a Comment