اب دعا بھول گئی اپنا اثر لوٹ چلیں
وہ نہ آیا ہے نہ آئے گا سحر لوٹ چلیں
ہم پہ کیا بیت گئی رات کے ڈھلتے ڈھلتے
کون لیتا ہے یہاں اپنی خبر لوٹ چلیں
کیسا ویران نگر ہے کہ مکانوں میں یہاں
کوئی زنجیر، نہ دیوار، نہ در لوٹ چلیں
سر پہ اک دھوپ کی چادر سی تنی ہو جیسے
کوئی سایہ، نہ کہیں کوئی شجر لوٹ چلیں
کس کو آواز دیں اب کس کا سہارا مانگیں
کوئی جاتا ہے، نہ آتا ہے ادھر لوٹ چلیں
جانے کیا بات ہوئی ایسی کہ چلتے چلتے
کان میں اس نے کہا؛ آؤ سحر لوٹ چلیں
سحر سعیدی
منیرالدین
No comments:
Post a Comment