Friday, 30 January 2026

اب دعا بھول گئی اپنا اثر لوٹ چلیں

 اب دعا بھول گئی اپنا اثر لوٹ چلیں

وہ نہ آیا ہے نہ آئے گا سحر لوٹ چلیں

ہم پہ کیا بیت گئی رات کے ڈھلتے ڈھلتے

کون لیتا ہے یہاں اپنی خبر لوٹ چلیں

کیسا ویران نگر ہے کہ مکانوں میں یہاں

کوئی زنجیر، نہ دیوار، نہ در لوٹ چلیں

سر پہ اک دھوپ کی چادر سی تنی ہو جیسے

کوئی سایہ، نہ کہیں کوئی شجر لوٹ چلیں

کس کو آواز دیں اب کس کا سہارا مانگیں

کوئی جاتا ہے، نہ آتا ہے ادھر لوٹ چلیں

جانے کیا بات ہوئی ایسی کہ چلتے چلتے

کان میں اس نے کہا؛ آؤ سحر لوٹ چلیں


سحر سعیدی

منیرالدین

No comments:

Post a Comment