میں تو سمجھی تھی وہ دلبر اب مِرا ہو جائے گا
کیا خبر تھی راستوں میں پھر جُدا ہو جائے گا
اے بغاوت جب تجھے میں اوڑھ لوں تو دیکھنا
رنگ دنیا کا بدل کر کیا سے کیا ہو جائے گا
اس کے قدموں کے نشاں سے جھوم اٹھے گی زمیں
اور پھر حیران سارا راستہ ہو جائے گا
جس کو مانگا ہی نہیں تھا ہاتھ پھیلا کر کبھی
دل بچھڑنے پر اسی کے غمزدہ ہو جائے گا
جا کہ تیری خیر ہو لیکن ہمارے ساتھ بھی
تُو نہیں تو اور کوئی دوسرا ہو جائے گا
دل لیا ہے آپ سے تو دل بھی دیں گے آپ کو
آپ ہاں کہہ دیں تو یہ سودا کھرا ہو جائے گا
نجمہ نسیم
No comments:
Post a Comment