Monday, 3 May 2021

کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی

 کتنا دشوار تھا دنیا یہ ہنر آنا بھی

تجھ سے ہی فاصلہ رکھنا تجھے اپنانا بھی

کیسی آداب نمائش نے لگائیں شرطیں

پھُول ہونا ہی نہیں پھُول نظر آنا بھی

دل کی بگڑی ہوئی عادت سے یہ امید نہ تھی

بھُول جائے گا یہ اک دن تِرا یاد آنا بھی

جانے کب شہر کے رشتوں کا بدل جائے مزاج

اتنا آساں تو نہیں لوٹ کے گھر آنا بھی

ایسے رشتے کا بھرم رکھنا کوئی کھیل نہیں

تیرا ہونا بھی نہیں اور تِرا کہلانا بھی

خود کو پہچان کے دیکھے تو ذرا یہ دریا

بھُول جائے گا سمندر کی طرف جانا بھی

جاننے والوں کی اس بھیڑ سے کیا ہو گا وسیم

اس میں یہ دیکھیے کوئی مجھے پہچانا بھی


وسیم بریلوی

No comments:

Post a Comment