Monday, 3 May 2021

ہم دل کی تباہی کا یہ ساماں نہ کریں گے

 ہم دل کی تباہی کا یہ ساماں نہ کریں گے

اس گھر میں کسی اور کو مہماں نہ کریں گے

گھبرا کے کبھی چاک گریباں نہ کریں گے

بدنام تجھے فصلِ بہاراں نہ کریں گے

مشعل کو چراغِ تہِ داماں نہ کریں گے

جو داغ ہیں سینے میں وہ پنہاں نہ کریں گے

ٹکرائیں گے تیرے لیے ہر موجِ بلا سے

ساحل پہ کھڑے شکوۂ طوفاں نہ کریں گے

اے وہ کہ تِری یاد ہے تسکینِ دل و جاں

حالات ہمیں کچھ بھی پریشاں نہ کریں گے

یہ درد کہ ہے تیری محبت کی امانت

مر جائیں گے اس درد کا درماں نہ کریں گے

اے دوست محبت کی نزاکت ہے نظر میں

ہم تجھ کو کسی طور پشیماں نہ کریں گے

دل میں ہے تِری چاہ تو اے جان تمنا

ہم اور کسی چیز کا ارماں نہ کریں گے


کوثر نیازی

No comments:

Post a Comment