Monday, 3 May 2021

جان یہ کہہ کے بت ہوشربا نے لے لی

 جان یہ کہہ کے بُت ہوش ربا نے لے لی

کوئی پوچھے تو یہ کہنا کہ خدا نے لے لی

گلِ مقصود میں اول تو مہک تھی ہی نہیں

اور جو تھی بھی وہ حسرت کی ہوا نے لے لی

سب سے پہلے تو سیاہی مری قسمت کو ملی

جو بچی تھی وہ تری زلفِ دو تا نے لے لی

جان کمبخت محبت میں بچائے نہ بچی

بت کافر سے جو چھُوٹی تو خدا نے لے لی

دمِ آخر بت بے درد کا دامن چھوٹا

میرے ہاتھوں سے بڑی چیز خدا نے لے لی

چل بسی جان تو اس بات کا غم کیا مضطر

اک امانت تھی خدا کی سو خدا نے لے لی


مضطر خیر آبادی

No comments:

Post a Comment