Monday, 3 May 2021

خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے

 خیرات صرف اتنی ملی ہے حیات سے

پانی کی بُوند جیسے عطا ہو فرات سے

شبنم اسی جنوں میں ازل سے ہے سینہ کوب

خورشید کس مقام پہ ملتا ہے رات سے

ناگاہ عشق وقت سے آگے نکل گیا

اندازہ کر رہی ہے خِرد واقعات سے

سُوئے ادب نہ ٹھہرے تو دیں کوئی مشورہ

ہم مطمئن نہیں ہیں تِری کائنات سے

خاموش ہم رہیں، تو ٹھہرتے ہیں با قصور

بولیں تو بات بڑھتی ہے چھوٹی سی بات سے

آساں پسندیوں سے اجازت طلب کرو

رستہ بھرا ہُوا ہے عدم مشکلات سے


عبدالحمید عدم

No comments:

Post a Comment