شام تھی، شام کے اُجالے تھے
اور ہم تم بِچھڑنے والے تھے
جس کی تعبیر اک جہنم تھا
ایسی جنت کے خواب پالے تھے
خونِ دل دے کے جن کو سینچا گیا
جانے وہ خار تھے، یا لالے تھے
بعد مُدت کے وہ مکاں دیکھا
بام و در جس کے دیکھے بھالے تھے
چاند نکلا تھا جن منڈیروں سے
ان منڈیروں کے لب پہ نالے تھے
موتیے کی جہاں پہ بیلیں تِھیں
اب وہاں مکڑیوں کے جالے تھے
ایک دِیمک زدہ سی الماری
چند اُکھڑے ہوئے سے تالے تھے
جن فضاؤں میں اب اُداسی تھی
کل یہاں چاندنی کے حالے تھے
ایسی وحشت تھی خالی کمروں میں
مُشکلوں سے قدم سنبھالے تھے
بِیج بویا تھا اس زمیں میں کبھی
غم نے خوشے یہیں نکالے تھے
اسی بستی کی تپتی گلیوں میں
اولیں شعر ہم نے ڈھالے تھے
جن کو اس دیس سے نکالا گیا
وہ اسی سرزمیں کے پالے تھے
کیسا آباد تھا کبھی یہ نگر
کھیل تقدیر کے نرالے تھے
اس خرابے میں اور کیا تھا ظہیر
بِچھڑی یادوں کے کچھ حوالے تھے
ظہیر اقبال
No comments:
Post a Comment