Wednesday, 5 May 2021

محبت میں خسارہ ہے کہا سب نے

 محبت میں خسارہ ہے، کہا سب نے

نہ اب تُو بھی ہمارا ہے کہا سب نے

تِرے قابل کبھی بھی بن نہ پاؤں گا

کہ تُو جو اتنا پیارا ہے کہا سب نے

یہ یک طرفہ محبت کو نہ چھیڑو تم

نہ اس کا کچھ اُتارا ہے کہا سب نے

اندھیری رات ہے یہ راہِ اُلفت بھی

نہ کوئی چاند تارا ہے کہا سب نے

نہیں ملتی یہاں راحت کسی کو بھی

نہ ہی کوئی سہارا ہے کہا سب نے

سسی پُنوں سے غالب جون مومن تک

اسی نے سب اُجاڑا ہے کہا سب نے

عمر ساری قضا اپنی ہی مانگو گے

عجب اس کا نظارہ ہے کہا سب نے

یہ آنکھیں دل خیال و سوچ اُلفت میں

نہیں کچھ بھی تمہارا ہے کہا سب سے

نہ جادو ہے نہ دَم دھاگہ کوئی منتر

نہ اس کا استخارہ ہے کہا سب نے

کوئی جو بھی ہوا قُربان اس پر ہے

اُسی کو اس نے مارا ہے کہا سب نے

اُلجھ مت اس سے تُو امجد بچا لے جان

تُو پہلے پارہ پارہ ہے کہا سب نے


امجد علی

No comments:

Post a Comment