چین گھر میں نہیں بازار سے ڈر لگتا ہے
خبریں ایسی ہیں کہ اخبار سے ڈر لگتا ہے
دِین بِکتا ہے تو دِیندار سے ڈر سے لگتا ہے
اب ہمیں جبہ و دستار سے ڈر لگتا ہے
آپ کے قول سنہرے سبھی سر آنکھوں پر
کیا کروں آپ کے کردار سے ڈر لگتا ہے
سر جھکاتا ہوں تو ہر سانس سے گھِن آتی ہے
سر اٹھاتا ہوں تو دستار سے ڈر لگتا ہے
اپنے بالوں کی سفیدی پہ سہم جاتا ہوں
زندگی اب تِری رفتار سے ڈر لگتا ہے
کچھ تو یہ ہے کہ زر و سیم کی حاجت بھی نہیں
اور کچھ سِکوں کی جھنکار سے ڈر لگتا ہے
رہبری دار کی رفعت پہ نظر رکھتی ہے
کیسے رہبر ہو تمہیں دار سے ڈر لگتا ہے
جب تِری تلخئ گفتار مزا دیتی تھی
اب تِری شوخئ گفتار سے ڈر لگتا ہے
وقتِ شبخوں ہمیں دشمن کا کوئی خوف نہیں
ہاں مگر اپنے ہی غدار سے ڈر لگتا ہے
جیت جاتا ہوں تو تسکین نہیں ہوتی ہے
ہار جاتا ہوں تو پھر ہار سے ڈر لگتا ہے
ظہیر اقبال
No comments:
Post a Comment