Thursday, 17 June 2021

مزے کے دن ہیں مگر دنوں میں مزا نہيں ہے

 مزے کے دن ہیں


گھروں میں بیٹھے ہیں

اور دفتر میں حاضری بھی لگی ہوئی ہے

کسی کا پرچہ بھی کٹ چکا ہے

کسی کی عرضی پڑی ہوئی ہے

فقیر شاہوں کے ساتھ گپیں لگا رہے ہیں

جو ہونے والا نہيں ہے ان کو بتا رہے ہیں

بتا رہے ہیں کہ بادشاہت جمہوری ملکوں میں بے اثر ہے، مُضر نہيں ہے

سب اس پہ بغلیں بجا رہے ہیں

مزے کے دن ہیں

ہر ایک مسجد کے گیٹ پر یہ لکھا ہوا ہے

یہاں حکومت خدا سے ملنے پہ معترض ہے

سو گھر پہ رہیۓ

خُدا کو کمروں میں یاد کیجے

نمازیں پڑھیے، اذانیں دیجے

ثواب لیجے

مزے کے دن ہیں

یہاں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی رش لگا ہے

قیامت آنے میں چار دن ہیں تنور والا بتا رہا ہے

بتا رہا ہے کہ روغنی نان کھانے والا بھی سُوکھی روٹی پہ آ رہا ہے

اور اس پہ ہنس کر دِکھا رہا ہے

مزے کے دن ہیں

وہ چھت پہ بیٹھی ہے اور میں ٹیرس سے دیکھتا ہوں

وہ ہر منٹ بعد اپنے ہاتھوں کو دیکھتی اور سُونگھتی ہے

اُسے کہیں سے پتا چلا ہے کہ سُونگھنے اور چکھنے والی حِسیں اگر کام کر رہی ہوں

تو سمجھیں کوئی مرض نہيں ہے

وہ اپنے بچوں کو ہاتھ دھونا سِکھا رہی ہے

جو خوش نہيں ہیں

وہ ان کو رونا سِکھا رہی ہے

مزے کے دن ہیں

ابھی ابھی اک حسین لڑکی جو شاپروں سے ڈھکی ہوئی تھی

گزر گئی ہے

محلے والے بتا رہے ہیں اسے کرونا نہيں تھا لیکن

وہ مر گئی ہے

اور اس پہ کوئی خبر نہيں ہے

مزے کے دن ہیں

مگر دنوں میں مزا نہيں ہے


عمران عامی

No comments:

Post a Comment