Thursday, 17 June 2021

جیسے کوئی ضدی بچہ کب بہلے بہلانے سے

 جیسے کوئی ضدی بچہ کب بہلے بہلانے سے

ایسے ہم دنیا سے چھپ کر دیکھیں خواب سہانے سے

سب کچھ سمجھے لیکن اتنی بات نہیں پہچانے لوگ

مل جاتا ہے چین کسی کو ایک تمہارے آنے سے

ہم تو غم کی ایک اک شدت باہر آنے سے روکیں

اس کی آنکھیں باز نہ آئیں انگارے برسانے سے

لوگو! ہم پردیسی ہو کر جانے کیا کیا کھو بیٹھے

اپنے کوچے بھی لگتے ہیں بےگانے بیگانے سے

دیکھو دوست! تمہارا مقصد شاید ہمدردی ہی ہو

میرا پیکر ٹوٹ گرے گا وہ باتیں دہرانے سے

گھر کا سناٹا تو حمیرا ہنگاموں کی نذر ہوا

دل کی ویرانی ویسی کی ویسی ایک زمانے سے


حمیرا رحمان

No comments:

Post a Comment