وہ نگر، کوچہ و بازار کہاں بُھولے ہیں
پھول بھولے ہیں کہاں، خار کہاں بھولے ہیں
ڈھلتی شاموں کی ضیا میں تِرا رستہ تکنا
سر جھکائے ہوئے اشجار کہاں بھولے ہیں
رات بھر شہر کی گلیوں میں بھٹکتے رہنا
ڈوبتے چاند کے اسرار کہاں بھولے ہیں
اس کے ہونٹوں پہ خموشی کے کڑے پہرے تھے
کوئی اقرار نہ انکار کہاں بھولے ہیں
مسکراتی ہوئی آنکھوں کی ستارہ سِی چمک
فتنے ڈھاتی ہوئی رفتار کہاں بھولے ہیں
جن کو سِکوں کی کھنک سن کے سکوں ملتا تھا
وہ ترے شہر کے کِردار کہاں بُھولے ہیں
جو فقط جسم کی آواز سنا کرتے تھے
سنگِ مر مر کے وہ شہکار کہاں بھولے ہیں
زندگی بھر بھی گِراتے تو بھلا کیا گِرتی
سونے چاندی کی تھی دیوار کہاں بھولے ہیں
کِس نے بیچی تھی سرِ عام وفا کی حُرمت
کون کس کا تھا خرِیدار کہاں بھولے ہیں
اب تِری یاد بھی آتی ہے تو دل دُکھتا ہے
کون کتنا تھا وفادار کہاں بھولے ہیں
شہرِ جاں جن کے تصور سے مہک اُٹھتا تھا
مِرے ساتھی مِرے دلدار کہاں بھولے ہیں
کھو دیا تجھ کو مگر کوئی گِلہ بھی نہ کِیا
وہ انا اور وہ پِندار کہاں بھولے ہیں
اس کی گلیوں کی ہواؤں کو سلامِ حسرت
اس کے بِھیگے ہوئے رُخسار کہاں بھولے ہیں
اس کی بستی کی خزائیں ہیں ابھی یاد ظہیر
خُشک پتوں کے وہ انبار کہاں بھولے ہیں
ظہیر اقبال
No comments:
Post a Comment