Thursday, 4 November 2021

گھر سے باہر کبھی نکلا کیجے

 گھر سے باہر کبھی نکلا کیجے

حشمی گلیوں میں ٹہلا کیجے

حسن باتوں میں بھی پیدا کیجے

سامنے آئینہ رکھا کیجے

کیوں کسی اور کو رسوا کیجے

اب کے اپنا ہی تماشا کیجے

پہلے خود آپ کو پرکھا کیجے

اور پھر شکوۂ دنیا کیجے

کہیں سولی نہ سمجھ لے کوئی

اپنی بانہوں کو نہ کھولا کیجے

سوچئے پھول کھلا ہے کیا کیا

صورتِ سنگ نہ دیکھا کیجے

اتنی فرصت بھی کسے ہے لیکن

گاہے گاہے ہمیں پوچھا کیجے

ہر کوئی منہ میں زباں رکھتا ہے

روکتا کون ہے؟ بولا کیجے

یہ بھی انداز ہے اک چھپنے کا

اس قدر پاس نہ آیا کیجے

آنے لگتی ہے شکستوں کی صدا

ایسے خاموش نہ بیٹھا کیجے

ربط بھی رکھتا ہے معنی اپنے

بات بے بات نہ ٹوکا کیجے

حشمی غم نے پھر انگڑائی لی

حشمی پھر غزل انشا کیجے


جلیل حشمی

No comments:

Post a Comment