Tuesday, 4 May 2021

زخم رسیدہ زہر گزیدہ درد کا مارا رہتا ہے

 زخم رسیدہ، زہر گزیدہ، درد کا مارا رہتا ہے

اس ندی کے پاس ہی لوگو اک بنجارہ رہتا ہے

آج بھی اس بستی کی شامیں رستہ تکتی رہتی ہیں

جانے کس آکاش پہ اب وہ چاند کا تارہ رہتا ہے

اب کے برس بھی ساون بھادوں تنہا تنہا بِیت گئے

کتنے کالے کوسوں پر وہ جان سے پیارا رہتا ہے

دل کا اُجڑا ویرانہ اب ایسا بھی ویران نہیں

اُجڑے ہوئے اس ویرانے میں درد تمہارا رہتا ہے

اب جو اس اک شہرِ طرب کی یادیں اُمڈی آتی ہیں

بادِ صبا کیا اُن گلیوں میں کوئی ہمارا رہتا ہے

راہِ وفا پہ چلنے والے لوگ اکیلے رہ جاتے ہیں

دیکھیں کتنی دیر تمہیں یہ ساتھ گوارہ رہتا ہے

جانے کیوں وہ پنکھ پکھیرُو اپنا ٹھکانہ بُھول گئے

مُدت گُزری سُونا سُونا جھیل کنارہ رہتا ہے

دُور کہیں سے رات گئے کچھ آوازیں سی آتی ہیں

پت جھڑ کی خاموش رُتوں میں ایک سہارا رہتا ہے

اس کے بعد جو اہلِ وفا پہ بِیت گئی سو بِیت گئی

ہم ہی بے کل کب رہتے ہیں شہر ہی سارا رہتا ہے


ظہیر اقبال

No comments:

Post a Comment