Tuesday, 4 May 2021

قرض کی مہلت گزر گئی ہے

 قرض کی مہلت گُزر گئی ہے

بھائی! مُدت گزر گئی ہے

وصل کے دعویدار کہو کیا

ہِجر کی عِدت گزر گئی ہے

ہم تو ایسے رونے لگے ہیں

جیسے محبت گزر گئی ہے

دشتِ جنوں! مجنوں کے غم میں

کیا بے وحشت گزر گئی ہے

دل سے حسرت کا جانا تھا

آنکھ سے حیرت گزر گئی ہے

شفق مہُورت کے چکر میں 

ساعتِ ہِجرت گزر گئی ہے


شفق سوپوری

No comments:

Post a Comment