ساتوں دریا سُوکھ گئے تھے
کچھ ایسے بھی دن آئے تھے
گھر والے سب چھُوٹ گئے تھے
کچھ ایسے بھی دن آئے تھے
دن کیسے بھی کٹ جاتے تھے
راتیں کاٹنی مشکل تھیں
گہرے کالے سائے تھے
کچھ ایسے بھی دن آئے تھے
گر گر آنسو دامن میں
گیلی کہانی لکھتے تھے
وہ سارے قصے پرائے تھے
کچھ ایسے بھی دن آئے تھے
اٍک اٍک کر کے آس کے موتی
کنکر بنتے جاتے تھے
وہ اپنے ہی ماں جائے تھے
کچھ ایسے بھی دن آئے تھے
بہلاوے ہی بہلاوے تھے
آنکھ سے اوجھل من کے بھیتر
دھوکے ا یسے کھائے تھے
کچھ ایسے بھی دن آئے تھے
تاشفین فاروقی
No comments:
Post a Comment