Tuesday, 4 May 2021

ابھی ملے ہی نہیں تھے مجھے سراغ مرے

 ابھی ملے ہی نہیں تھے مجھے سراغ مِرے

ہوائے وقت نے گُل کر دئیے چراغ مرے

فلک شعور پہ غالب، زمیں جبلّت پر

خلا سمیٹے ہوئے ہیں دل و دماغ مرے

سنبھال رکھے گی اولاد آخرش کب تک

قلم، دوات، کتابیں، بُجھے چراغ مرے

گرا دیا تِری تعمیر نے مِرا سب کچھ

نہ گاؤں گاؤں رہا اور نہ باغ باغ مرے

قدم قدم پہ ملیں گے لہو کے خشک نشاں

بھٹکنے دیں گے نہ آئندگاں کو داغ مرے


علی شیران

No comments:

Post a Comment