گردشِ ماہ و سال رہنے دے
یہ عروج و زوال رہنے دے
جانے کس کس کا نام آئے گا
چل گیا کون چال، رہنے دے
وہ رُتیں اب کبھی نا لوٹیں گی
ان رُتوں کا ملال رہنے دے
اس کی آنکھیں غزال جیسی تھیں
یہ پرانی مثال رہنے دے
کوئی تشبیہ بر محل ہی نہیں
اب یہ چشمِ غزال رہنے دے
کون گِرتوں کا ساتھ دیتا ہے
کون پوچھے گا حال رہنے دے
شاعری خون سے ہوتی ہے
قافیوں کا کمال رہنے دے
چڑھتے دریا بھی اُتر جاتے ہیں
دو گھڑی کا اُچھال رہنے دے
مجھ کو کھدر عزیز ہے اپنا
تُو یہ ریشم کی شال رہنے دے
ظہیر اقبال
No comments:
Post a Comment