Monday, 3 May 2021

کس نے اب یہ خبر اڑائی ہے

 کس نے اب یہ خبر اڑائی ہے

اس کے دل تک مِری رسائی ہے

میں بھی دل کھول کر ہنسا لیکن

مجھ پہ قسمت بھی مسکرائی ہے

میں ہوں اک دل ہے اور سایہ ہے

تین ہیں، تینوں میں لڑائی ہے

درد ہیں، آنسو آہیں اور غم ہے

پیار میں بس یہی کمائی ہے

پیار یہ آج کل کا پیار نہیں

سن اے لڑکی یہ گہری کھائی ہے

گر جو مانو تو میں یہ کہتا ہوں

سچ میں پُر لُطف یہ جدائی ہے

اپنی عزت بھی جب گنوا دی ہے

ڈُوب مرنے میں کیا برائی ہے

پیار ماں باپ کا ہی پیار ہے بس

ورنہ یہ پیار جگ ہنسائی ہے

پیار کو میں تو اتنا ہی جانا

زندگی یونہی بس لٹائی ہے

اتنی تو سُوجھ بُوجھ ہے امجد

تنہا رہنے میں ہی بھلائی ہے


امجد علی 

No comments:

Post a Comment