Monday, 3 May 2021

ترے جیسا اور جہان میں کوئی شعلہ رو نہیں مل سکا

 تِرے جیسا اور جہان میں کوئی شعلہ رو نہیں مِل سکا

مجهے اور لوگ بہت ملے، مگر ایک تُو نہیں مل سکا

یہ عجیب وضع کا ہجر تها کہ بچهڑنے والے کی کهوج میں

کئی آفتاب گئے مگر مِرا ماہ رُو نہیں مل سکا

کسی اور کا کوئی ذکر کیا اسی کائناتِ وجود میں

مجهے آپ اپنا سراغ بهی تو کبهو کبهو نہیں مل سکا

میں بہت پهرا تِرے کهوج میں مگر آج تک مِرے حیلہ جُو

تِرے بهید کا کوئی اک سرا دمِ جستجو نہیں مل سکا

عجب التجائے فرات ہے اسے وہ بهی لوگ دعائیں دیں

جنہیں ایک قطرۂ آب بهی سرِ آبجو نہیں مل سکا

تِرے بعد یوں تو تمام شہر نے رنگ رنگ کی بات کی

کوئی تجھ سا حرف شناس صاحبِ گفتگو نہیں مل سکا


طارق نعیم

No comments:

Post a Comment