کچھ حاسدوں نے اتنی لگائی بُجھائی کی
ہم دونوں میں بھی آ گئی نوبت جُدائی کی
تا حال ہم سے اور تو کچھ بھی نہیں ہُوا
البتہ اپنے آپ سے زور آزمائی کی
فن کا مظاہرہ کیا اندھوں میں ناچ کر
بہروں کے پاس بیٹھ کے نغمہ سرائی کی
بے گار میں پکڑ لیے جب اک امیر نے
لوگوں نے ناخنوں سے زمیں کی کھُدائی کی
محسوس کیا کرے وہ فقیروں کے درد کو
بنئیے نے جمع اپنے لیے پائی پائی کی
پانسہ محاذِ عشق پہ اس نے پلٹ دیا
ہم نے شکست مان کے کشور کشائی کی
کمزور بھی ہوں، سرد علاقے میں ہوں نسیم
پڑتی ہے جون میں بھی ضرورت رضائی کی
نسیم عباسی
No comments:
Post a Comment