Monday, 3 May 2021

غم زندگی کے غبار کو کہیں آسرا نہیں مل سکا

 غمِ زندگی کے غبار کو کہیں آسرا نہیں مِل سکا

تِرے بعد تجھ سا جہان میں کوئی دوسرا نہیں مل سکا

مِری آنکھ جس کے خمار میں کئی منزلوں سے گزر گئی

مِری چاہتوں کی جبین کو وہی نقشِ پا نہیں مل سکا

تِرے درد سے جو بھرا نہ ہو تِری یاد میں جو فنا نہ ہو

مجھے اپنے آپ سے بھاگنے کا وہ راستہ نہیں مل سکا

مجھے زندگی سے محبتوں کی سزا میں قتل کیا گیا

مِرا زندگی کے وجود سے کوئی واسطہ نہیں مل سکا

سنو، ایک ساعتِ زرد میں مرے سارے خواب بکھر گئے

مجھے عمر بھر کی ریاضتوں کا بھی کچھ صِلہ نہیں مل سکا


دائم بٹ

No comments:

Post a Comment