کبھی تمہارا اُداس دل ہو تو قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں
کبھی کسی کی کمی لگے تو قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں
تمہارے اپنے جو دُور بیٹھے تمہاری نظریں اُتارتے ہیں
جو تم نہ ان کو قریب پاؤ تو قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں
کبھی جو تنہائی میں جو کسی کی صدائیں تم کو سُنائی دیں
تو چُپکے چُپکے سے بند آنکھوں قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں
یہ میرا وعدہ بھی یاد رکھنا کہ میں نہ تم کو بھُلا سکو گی
جو تم بھی مجھ کو بھُلا نہ پاؤں تو قیاس کرنا کہ پاس میں ہوں
لبنیٰ کنول
No comments:
Post a Comment