Monday, 3 May 2021

خوشیاں تمام غم میں وہ تبدیل کر گیا

 خوشیاں تمام غم میں وہ تبدیل کر گیا

آخر مِرے خلوص کی تذلیل کر گیا

وہ ایک شخص دوستوں مر تو گیا مگر

روشن جہاں میں پیار کی قندیل کر گیا

لکھ کر وفا کا نام وہ سادہ ورق پہ آج

پوری ہر اک کتاب کی تفصیل کر گیا

شعلہ بیاں تھا کتنا خطرناک دوستو

لفظوں کا زہر جسم میں تحلیل کر گیا

سیفی کی آج موت پہ دشمن بھی کہہ اٹھے

اچھا تھا وہ حیات کی تکمیل کر گیا


سیفی سرونجی

No comments:

Post a Comment