Monday, 12 April 2021

یہ جو پر درد زندگانی ہے

 یہ جو پُر درد زندگانی ہے 

ایک ظالم کی مہربانی ہے 

یہ جو میں شاعری میں لکھتی ہوں 

یہ مِرے درد کی کہانی ہے 

اور تو کیا بچا ہے دل میں مِرے

آپ کی یاد کی روانی ہے

حسرتوں کا گلا دبایا ہے

آگ خوابوں کو بھی لگانی ہے 

میرے اشکوں میں ضبط بہتا ہے

جس کو کہتے ہیں سب کہ پانی ہے

وائے تقدیر تجھ سے کیسا گِلہ

میری ہستی تو خود ہی فانی ہے

مجھ کو کب تک ڈرائے گی وحشت

ایک دن موت بھی تو آنی ہے

صبر کرنا تو میرا پیشہ ہے

میں نے کب دل سے ہار مانی ہے


رمل اقبال

No comments:

Post a Comment