کس قدر تیز ہوا ہے باہر
ایک طوفان بپا ہے باہر
شہر زنجیر زنی کرتا ہے
اک عجب کرب و بلا باہر
خواب اک اور تسلسل کا اسیر
رات کا رنگ جدا ہے باہر
سر پٹکتے ہیں یہ زندانی کیوں
کیا کوئی خواب سرا ہے باہر
پائے افگار فقط ہم ہی نہیں
یار بھی آبلہ پا ہے باہر
اندروں ساز شکستہ ہے مگر
کوئی وحشت کی صدا ہے باہر
دیکھنا شام بجھا دے نہ اسے
ایک مٹی کا دیا ہے باہر
میرا اندر بھی ہے آسیب زدہ
پر بڑی خوف سرا ہے باہر
روشنی دفن ہے مقتل میں ندیم
کون زنجیر بپا ہے باہر
کامران ندیم
No comments:
Post a Comment