روح سرشار ہے انفاس کی خوشبو سے ابھی
اٹھ کے یہ کون گیا ہے مِرے پہلو سے ابھی
کھو گیا ہوں میں اگر خوابِ فراموشی میں
وہ جگا دے گا مجھے لمس کے جادو سے ابھی
بجھ چکا کب کا چراغِ رخِ لیلیٰ، لیکن
وُسعتِ نجد ہے روشن رمِ آہو سے ابھی
دل ازل سے ہے شناسائے مقامِ ہمہ اُوست
عقل فارغ نہیں تاویلِ من و تُو سے ابھی
خاک میں اس کی نہاں لعل و گہر ہیں لاکھوں
ہم تو اٹھنے کے نہیں کوچۂ اردو سے ابھی
علی مینائی
No comments:
Post a Comment