Monday, 6 March 2023

نظر تک آیا ہے پہچان تک نہیں آیا

 نظر تک آیا ہے پہچان تک نہیں آیا 

یہ واہمہ ابھی امکان تک نہیں آیا 

جراحت غم دوراں کی ابتداء کہیۓ 

دلِ جہاں زدہ، پیکان تک نہیں آیا 

وہ اور بات کہ جاں کی امان مانگی تھی 

میں اس کی بیعت و پیمان تک نہیں آیا 

بس اس کے لمس کا الہام ہی اترتا ہے 

وہ میرے مصحف وجدان تک نہیں آیا 

یہ زندگی تو نفی میں گزار دی میں نے 

پر اس کے حلقۂ میزان تک نہیں آیا 

کتابِ حُسن کی تعبیر خیر کیا کرتا 

ندیم! آئینہ عنوان تک نہیں آیا


کامران ندیم

No comments:

Post a Comment