Monday, 6 March 2023

اب وہ لوگ کہاں باقی ہیں

 اُس نے پوچھا

اِس دنیا میں

کتنے لوگ ہیں 

جن کا ایک فریم میں آنا

یا پل بھر کا ساتھ

قیامت ڈھا سکتا ہے

سانس سمے کی جم سکتی ہے

سورج راہ سے ہٹ سکتا ہے

چاند کی دھڑکن تھم سکتی ہے

نیل، گگَن سے کٹ سکتا ہے؟

شاعر نے چپ چاپ سنا یوں

چائے کا اک گھونٹ بھرا

پھر دو پل سوچا اور کہا یوں

میری معلومات تو کم ہیں

اب وہ لوگ کہاں باقی ہیں

بس دو دل، جو ساتھ چلیں تو

گھور اندھیرا گھٹ جاتا ہے

نور سبھی میں بٹ جاتا ہے

مِٹ جاتے ہیں، جتنے غم ہیں

پہلے تم ہو، دوجے ہم ہیں


حماد یونس

No comments:

Post a Comment