Monday, 6 March 2023

خدا پر اٹھی انگلیاں بڑھنے لگتی ہیں

 بے نام اجسام

خدا پہنے

سربریدہ لاشوں کی سیڑھیاں بنا کے

جنت کی حوروں کو پکارتے 

اور تسکین کی خواہش میں

جسموں کی تنی ہوئی طنابوں پر

حمد کرتے ہوئے جزا طلب کرتے ہیں

وقت قہقہہ لگا کر

پرانے صحیفوں میں

رقم حکایتوں پر سر دُھنتا

اور گلی کوچوں میں بہتے بے محابہ لہو میں

قلم ڈبو کر بے خبری پر

پرانے باب دہراتا ہے

ہمیشہ کی طرح

خدا پر اُٹھی انگلیاں بڑھنے لگتی ہیں


شاہین کاظمی

No comments:

Post a Comment