بے نام اجسام
خدا پہنے
سربریدہ لاشوں کی سیڑھیاں بنا کے
جنت کی حوروں کو پکارتے
اور تسکین کی خواہش میں
جسموں کی تنی ہوئی طنابوں پر
حمد کرتے ہوئے جزا طلب کرتے ہیں
وقت قہقہہ لگا کر
پرانے صحیفوں میں
رقم حکایتوں پر سر دُھنتا
اور گلی کوچوں میں بہتے بے محابہ لہو میں
قلم ڈبو کر بے خبری پر
پرانے باب دہراتا ہے
ہمیشہ کی طرح
خدا پر اُٹھی انگلیاں بڑھنے لگتی ہیں
شاہین کاظمی
No comments:
Post a Comment