Monday, 6 March 2023

دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا

 دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا

کہ شام بیت گئی اور تُو نہیں آیا

جہاں سے میں نے کیا تھا کبھی سفرِ آغاز

میں خاک دُھول ہوا لوٹ کر وہیں آیا

وہ جس کے ہاتھ سے تقریبِ دل نمائی تھی

ابھی وہ لمحۂ موجود میں نہیں آیا

بس ایک بار مِری نِیند چھو گیا کوئی

پھر اُس کے بعد ہر اِک خواب دل نشیں آیا

بچھڑ کے تجھ سے تِری یاد بھی نہیں آئی

مکاں کی سمت پلٹ کر مکیں نہیں آیا


فہیم شناس کاظمی

No comments:

Post a Comment