Thursday, 23 March 2023

ترے کرم نے مجھے کر لیا قبول مگر

اعتراف (اپنی شریک حیات ویرا زیدی کے لیے)


تیرے کرم  نے، مجھے کر لیا قبول مگر

میرے جُنوں سے، محبت کا حق ادا نہ ہوا

تیرے غموں  نے میرے ہر نشاط کو سمجھا

مرا نشاط، ترے غم سے آشنا نہ ہوا

کہاں کہاں نہ، میرے پاؤں لڑکھڑائے مگر

تیرا ثبات عجب تھا، کہ حادثہ نہ ہوا

ترے دُکھوں نے پکارا تو میں قریب نہ تھا

مرے غموں نے صدا دی، تو فاصلہ نہ ہوا

ترے مجاز میں اس کے لیے پرستش تھی

خدا کا نام لیے جس کو اک زمانہ ہوا

ہزار دشنہ و خنجر تھے، میرے لہجے میں

تری زباں پہ کبھی، حرفِ ناروا نہ ہوا

ہزار شمعوں کا بنتا رہا، میں پروانہ

کسی کا گھر تیرے دل میں، میرے سِوا نہ ہوا

مری سیاہئ دامن کو دیکھنے پر بھی

تیرے سفید دوپٹوں کا ، دِل بُرا نہ ہوا

خزف کی جیب میں کیا تھا سوائے گمنامی

بس ایک گوہرِ نایاب سے خزانہ ہوا


مصطفیٰ زیدی

No comments:

Post a Comment