Thursday, 9 December 2021

کیسا سناٹا ہے یا رب

 پرانا باغ


کیسا سناٹا ہے یا رب

اور کیسی تلملاتی مضطرب تنہائی ہے

آوازیں آتی ہیں، لیکن

ملی جلی

اونچی نیچی

معنی مطلب کو صرف

ذرا سا چُھو کر

اِدھر اُدھر بہہ جاتی ہیں

اک یاد کی خوشبو آتی ہے

رنگین منقش

تتلی کے تھرتھراتے پر جیسے

لیکن وہ بھی

اک جھونکا لے کر

اُڑ جاتی ہے


سجاد ظہیر

No comments:

Post a Comment