Thursday, 9 December 2021

اس کو دل سے نکالنے بیٹھے

 اس کو دل سے نکالنے بیٹھے

روگ کیسا یہ پالنے بیٹھے

ڈھلتا سورج کہ پھر نکل آیا

جب کبھی اس کو ٹالنے بیٹھے

چاند تارے الجھ گئے سارے

روپ اس کا اجالنے بیٹھے

موج در موج ڈوبتا ہے دل

جال کیسا یہ ڈالنے بیٹھے

وہ نظر میں سما گیا اک دن

ایسے اس کو نہارنے بیٹھے

پھر غزل در غزل کہی ہم نے

اس کو لفظوں میں ڈھالنے بیٹھے


مہناز بنجمن

No comments:

Post a Comment