اس کو دل سے نکالنے بیٹھے
روگ کیسا یہ پالنے بیٹھے
ڈھلتا سورج کہ پھر نکل آیا
جب کبھی اس کو ٹالنے بیٹھے
چاند تارے الجھ گئے سارے
روپ اس کا اجالنے بیٹھے
موج در موج ڈوبتا ہے دل
جال کیسا یہ ڈالنے بیٹھے
وہ نظر میں سما گیا اک دن
ایسے اس کو نہارنے بیٹھے
پھر غزل در غزل کہی ہم نے
اس کو لفظوں میں ڈھالنے بیٹھے
مہناز بنجمن
No comments:
Post a Comment