اثبات
جب سانسوں کی تسبیح کرتے
ایک موتی کے بعد دوسرا موتی پرونے میں
ان تھک محنت لگ رہی ہو
جب زندگی کا سب سے مشکل کام
اپنی سانسوں کو برقرار رکھنا ہو
تب تمہیں پتا ہے
تمہیں کیا کرنا ہے
تمہیں اپنی مسکراہٹ کا قلعہ قائم کرنا ہے
مضبوط اور ناقابلِ تسخیر قلعہ
کوئی اس میں داخل نہ ہونے پائے
سن اے معصوم لڑکی سن
تم نے اپنے سارے درد
ساری کرب ناک چینخیں
وہ ساری اذیتیں جو خلوص کی تجارت میں حاصل ہوئیں
انہیں اس قلعہ میں محفوظ اور قید رکھنا ہے
صبر اس قلعہ کا دربان ہو
شکر کا لشکر اس قلعہ کو ہر وقت حالت جنگ میں رکھے
آزمائش اس قلعہ کی ملکہ ہو
اور مسکراہٹ کی بادشاہت اس قلعہ پر ہمیشہ قائم رہے
اے نادان لڑکی
تمہیں خود کو خود ہی سہارا دینا ہے
کہاں معاشرے سے ڈر کر
اپنوں کے دیے
زخموں کو پیشانی پر سجائے
بھاگ رہی ہو
رکو اور مقابلہ کرو
اور جان لو کہ قصاص جائز
پر معافی افضل ہے
اے پھول سی لڑکی
آنکھیں نم رکھ
ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے رکھ
اور زندگی سے خراج وصول کر
مدیحہ مغل
No comments:
Post a Comment