Tuesday, 12 July 2022

اے پھول سی لڑکی آنکھیں نم رکھ

 اثبات 


جب سانسوں  کی تسبیح کرتے

ایک موتی کے بعد دوسرا موتی پرونے میں

ان تھک محنت لگ رہی ہو

جب زندگی کا سب سے مشکل کام 

اپنی سانسوں کو برقرار رکھنا ہو

تب تمہیں پتا ہے 

تمہیں کیا کرنا ہے

تمہیں اپنی مسکراہٹ کا قلعہ قائم کرنا ہے

مضبوط اور ناقابلِ تسخیر قلعہ

 کوئی اس میں داخل نہ ہونے پائے

سن اے معصوم لڑکی سن

 تم نے اپنے سارے درد

ساری کرب ناک چینخیں

وہ ساری اذیتیں جو خلوص کی تجارت میں حاصل ہوئیں

انہیں اس  قلعہ میں محفوظ اور قید رکھنا ہے

صبر اس قلعہ کا دربان ہو

شکر کا لشکر اس قلعہ کو ہر وقت حالت جنگ میں رکھے

آزمائش اس قلعہ کی ملکہ ہو

اور مسکراہٹ کی بادشاہت اس قلعہ پر ہمیشہ قائم رہے

اے نادان لڑکی 

تمہیں خود کو خود ہی سہارا دینا ہے

کہاں معاشرے سے ڈر کر

اپنوں کے دیے 

زخموں کو پیشانی پر سجائے 

بھاگ رہی ہو

رکو اور مقابلہ کرو

اور جان لو کہ قصاص جائز

پر معافی افضل ہے

اے پھول سی لڑکی

آنکھیں نم رکھ 

 ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے رکھ 

اور زندگی سے خراج وصول کر 


مدیحہ مغل

No comments:

Post a Comment