مجھے خبر تھی کہ اس لمحے کیا ضروری تھا
نگاہ بھر کے تجھے دیکھنا ضروری تھا
خبر ملی ہے تو پھر ٹھیک ہی ملی ہو گی
وہی مِرا ہے جو گھر میں بڑا ضروری تھا
وہ کہہ رہے تھے ضروری تھا ساتھ ہوتا کوئی
تو میں نے آہ بھری اور کہا؛ ضروری تھا
بھٹکنے والے نے مرتے ہوئے کہا یارو؛
مجھے یقین ہے شاید خدا ضروری تھا
جلال میں تھا کسی کو بھی مار سکتا تھا
فقیر کے لیے تب ناچنا ضروری تھا
انہی دنوں مجھے جب مل رہے تھے دوسرے لوگ
تمہارے ساتھ مِرا رابطہ ضروری تھا
خدا سے اتنی شکایت تو میری بنتی تھی
کہ مجھ سے پوچھ تو لینا تھا کیا ضروری تھا
ندیم بھابھہ
No comments:
Post a Comment