Tuesday, 12 July 2022

اب یہاں سب کو محبت ہے میاں

 اب یہاں سب کو محبت ہے، میاں

اب میں چلتا ہوں، اجازت ہے، میاں 

عشق ہے، یہ کوئی مجبوری نہیں

دیکھ لو، جیسے سہولت ہے، میاں

میں یہاں تک تجھے لے آیا ہوں

اس سے آگے تِری ہمت ہے، میاں

خیر تم نے تو کِیا جو بھی کِیا

اپنے دل پر مجھے حیرت ہے، میاں

ایک خیمہ ہے، مسافر ہم دو

اب فقط ایک ہی صورت ہے، میاں

کر تو سکتا ہوں جوابی حملہ

فکر یہ ہے کہ وہ عورت ہے، میاں

بچھڑے لوگوں کو ملا دیتے ہو تم

ایک میری بھی محبت ہے، میاں

آپ کچھ اور سمجھ بیٹھے ہیں

ہنستے رہنا مِری عادت ہے، میاں

کام ہو جائے گا، بیٹھو تو سہی

ایسی بھی کیا تمہیں عجلت ہے، میاں

تمہیں انکار تو ممکن ہی نہیں

لیکن اس وقت جو حالت ہے، میاں

اور کیا ہو گا بھلا کوئی ثبوت

تیرے چہرے پہ ندامت ہے، میاں

ہو گیا ہے تُو یہاں سے تو بری

ایک آگے بھی عدالت ہے، میاں

تم نے لوٹ آنے میں کیوں دیر کری

اب مجھے خود سے محبت ہے، میاں

دیکھنے کی نہ جسارت کیجے

صرف چھونے کی اجازت ہے، میاں

کیوں شکاری سے ڈراتے ہو انہیں

ہرنیوں کی تو یہ فطرت ہے، میاں

تم کسی اور کو یہ لالچ دو

مجھ پہ اللہ کی عنایت ہے، میاں

بڑی مشکل سے ہوا ہوں بے حس

اب سہولت ہی سہولت ہے، میاں

تم کہاں تاج لیے پھرتے ہو؟

اب فقیروں کی حکومت ہے، میاں

زندگی کرنا تو ہے دور کی بات

سانس لینا بھی غنیمت ہے میاں

کیوں مجھے بانٹ رہے ہو سب میں

یہ امانت میں خیانت ہے، میاں

تم سے بدلے میں وفا کیوں مانگیں

کیا وفا کوئی تجارت ہے میاں


رحمان فارس

No comments:

Post a Comment