اس نے جب پاؤں نئیں اتارا تھا
جھیل کا پانی کتنا کھارا تھا
میٹھا بٹنا تھا اس کے ہاتھوں سے
ہم نے بھوکے ہی دن گزارا تھا
جتنا وہ شخص خوبصورت ہے
دل بچانے کا کوئی چارہ تھا؟
میں نے سرسوں کے پھول دیکھے تھے
تجھ کو بے ساختہ پکارا تھا
رات بھر تیرے خواب آتے رہے
دن کسی باغ میں گزارا تھا
اور کیا کچھ نہیں گنوایا دوست
دل تو اک ضمنیہ خسارا تھا
فیاض بوستان
No comments:
Post a Comment