Thursday, 6 April 2023

اس نے جب پاؤں نئیں اتارا تھا

 اس نے جب پاؤں نئیں اتارا تھا

جھیل کا پانی کتنا کھارا تھا

میٹھا بٹنا تھا اس کے ہاتھوں سے

ہم نے بھوکے ہی دن گزارا تھا

جتنا وہ شخص خوبصورت ہے

دل بچانے کا کوئی چارہ تھا؟

میں نے سرسوں کے پھول دیکھے تھے

تجھ کو بے ساختہ پکارا تھا

رات بھر تیرے خواب آتے رہے

دن کسی باغ میں گزارا تھا

اور کیا کچھ نہیں گنوایا دوست

دل تو اک ضمنیہ خسارا تھا


فیاض بوستان

No comments:

Post a Comment