عشق بس ایک بار ہوتا ہے
دوسرا کاروبار ہوتا ہے
ہم سے سادہ مزاج لوگوں کا
دکھ بھی سانجھا شمار ہوتا ہے
اس کو ہوش و حواس سے مطلب
جو بھی پہلوئے یار ہوتا ہے
دشمنی دوستی میں بدلیں گے
یار سرحد کے پار ہوتا ہے
اس سے خطرے ڈریں گے خود یعنی
جس کو پنجتن سے پیار ہوتا ہے
پہلے تصویر دیکھو جی بھر کے
دیکھ کیسے غبار ہوتا ہے
آئینے کو الٹ پلٹ دیکھا
سامنے عکسِ یار ہوتا ہے
دکھ کے آگے بھی دکھ ہے ہاں دکھ ہے
دکھ کے اندر قرار ہوتا ہے
وشال سحر
No comments:
Post a Comment