وہ عشق آپ سے جو نبھایا نہیں گیا
میں سچ کہوں تو مجھ سے بھلایا نہیں گیا
وہ درد ہے کہ سانس اکھڑنے لگی ہے اب
ہاں بارِ ہجر مجھ سے اٹھایا نہیں گیا
عیسی مزاج کوئی مسیحا نہیں ملا
اور آپ سے بھی ساتھ نبھایا نہیں گیا
میں پوچھتا رہا کیوں سزا دی گئی مجھے
میرا قصور کیا تھا بتایا نہیں گیا
کیوں جاگتے ہو غیر کے سینے پہ سر رکھے
سویا نہیں گیا کہ سلایا نہیں گیا؟
مانا کہ حسن میں وہ بلا کی حسین ہے
کردار میں مگر کہیں پایا نہیں گیا
تقسیم ہو گیا ہوں میں دو ایک سے ملوک
وہ ایک ضرب دو سے بچایا نہیں گیا
عمران ملوک اعوان
No comments:
Post a Comment