Thursday, 6 April 2023

وہ عشق آپ سے جو نبھایا نہیں گیا

 وہ عشق آپ سے جو نبھایا نہیں گیا

میں سچ کہوں تو مجھ سے بھلایا نہیں گیا

وہ درد ہے کہ سانس اکھڑنے لگی ہے اب

ہاں بارِ ہجر مجھ سے اٹھایا نہیں گیا

عیسی مزاج کوئی مسیحا نہیں ملا

اور آپ سے بھی ساتھ نبھایا نہیں گیا

میں پوچھتا رہا کیوں سزا دی گئی مجھے

میرا قصور کیا تھا بتایا نہیں گیا

کیوں جاگتے ہو غیر کے سینے پہ سر رکھے

سویا نہیں گیا کہ سلایا نہیں گیا؟

مانا کہ حسن میں وہ بلا کی حسین ہے

کردار میں مگر کہیں پایا نہیں گیا

تقسیم ہو گیا ہوں میں دو ایک سے ملوک

وہ ایک ضرب دو سے بچایا نہیں گیا


عمران ملوک اعوان

No comments:

Post a Comment