Thursday, 6 April 2023

بعد مدت کے سہی دن یہ سہانے آئے

 بعد مدت کے سہی دن یہ سہانے آئے

آج کی شب وہ مجھے جام پلانے آئے

پی کے مدہوش بنا بیٹھا تِری یادوں میں

سوئے خوابوں کو مِرے پھر سے جگانے آئے

دیکھو ان چلتے ہوئے وقت کے طوفانوں کو

خوف فرقت کا ہمیں یار دکھانے آئے

ہم ہیں غدار، تو پابندِ وفا تم ہو کیا؟

پھر بھی ہم رسمِ وفا تم سے نبھانے آئے

اک تِری یاد ہے برسات ہے تنہائی ہے

کاش ہم سے ہی تو ملنے کے بہانے آئے


محسن کشمیری 

No comments:

Post a Comment