Thursday, 6 April 2023

بڑے نازوں سے دل میں جلوۂ جانانہ آتا ہے

 بڑے نازوں سے دل میں جلوۂ جانانہ آتا ہے

یہ گھر جس نے بنایا ہے وہ وہ صاحب خانہ آتا ہے

خدا کے واسطے منہ سے لگا دے خم کے خم ساقی

بڑا گھنگھور بادل جانبِ مے خانہ آتا ہے

نکل جاتا ہے منہ سے نام ان کا باتوں باتوں میں

زباں پر جو نہ آنا تھا، وہ بے تابانہ آتا ہے

نکلتی ہے کسی پر جھوم کر وہ مجھ پہ گرتی ہے

تمہاری تیغ کو کیا شیوۂ مستانہ آتا ہے؟

بہار آخر ہوئی ہے قدر کی تربت پہ میلہ ہے

یہاں بیڑی بڑھانے کو ہر اک دیوانہ آتا ہے


قدر بلگرامی

No comments:

Post a Comment