Wednesday, 6 January 2021

ہر ایک بندہ جب ایسے عالم میں مصلحت کا شکار ہو گا

 ہر ایک بندہ جب ایسے عالم میں مصلحت کا شکار ہو گا

ہمارے جیسوں کو دیکھ لینا وبا کے موسم میں پیار ہو گا

بس ایک دن یونہی اپنے پیاروں کی میں توجہ سمیٹ لوں گا

بس ایک دن یونہی سر دُکھے گا، ذرا سا مجھ کو بخار ہو گا

میں پوری محنت سے، جاں فشانی سے، گریہ زاری تو کر رہا ہوں

نہ جانے کتنی ملے گی اجرت، نہ جانے کتنا اُدھار ہو گا

اگر تحمل سے بات سن لو، اگر محبت سے دیکھ لو تم

یقین جانو، خدا کے آگے یہ نیکیوں میں شمار ہو گا

یہ آنکھ دریا بنی ہوئی ہے یہ سوکھ جائے گی کچھ دنوں تک

یہ ایک رستہ فرار کا ہے، یہیں سے اس کا فرار ہو گا

بڑی مروت سے مل رہے ہیں ہم ایک دوجے سے مسکرا کر

منافقانہ سا یہ رویہ ہماری روحوں پہ بار ہو گا

میں جانتا ہوں نئی مسافت کے زخم کاری تو ہوں گے لیکن

میں مطمئن ہوں کہ میرے اطراف تیرے غم کا حصار ہو گا


جہانزیب ساحر

No comments:

Post a Comment