تجھے اپنے گھر کی پڑی ہوئی مجھے دوستوں کی خبر نہیں
تجھے آشناؤں کا پاس ہے، مجھے رہبروں کی خبر نہیں
مجھے خواب میں دے تسلیاں، یا ہوا کے ہاتھ پیام دے
مجھے آج بھی میرے رہنما تِرے راستوں کی خبر نہیں
مجھے ہے خبر تو فراق کی مجھے رنج ہے تو جدائی کا
وہ جو جلوہ گر تھا خیال میں انہیں سلسلوں کی خبر نہیں
وہ جو حشر ہے وہ غزال ہے وہ جو نیند ہے وہ عذاب ہے
وہ جو حسن ہے وہ خیال ہے جسے گردشوں کی خبر نہیں
اسے پائی پائی چکائی ہے، اسے پھر بھی خوفِ خدا کہاں
اسی حسن، حسنِ کمال کو مِری عادتوں کی خبر نہیں
کئی پھول دیکھ کے جل گئے تِرے حسن، حسنِ کمال کو
کئی خواب دیکھ فنا ہوئے تجھے حسرتوں کی خبر نہیں
میں ندیم اس کے خیال میں کئی بار چھت پہ گیا مگر
اسے دیکھ کر یہ پتا چلا، اسے چاہتوں کی خبر نہیں
ندیم ملک
No comments:
Post a Comment