Wednesday, 20 October 2021

تم تاروں کی چھاں مانگو اور نہ چاند پکارو سائیں

 تم تاروں کی چھاں مانگو

اور نہ چاند پکارو سائیں

نہ تم پھول کو جیب میں ٹانکو

نہ چاہو تم خوشبو سائیں

تیری رات کی مٹکی الٹی

سوکھے جام نہ دارو سائیں

نہ تم مانو ہستی مستی

کیا صوفی کیا سادھو سائیں

تیرے بھید میں کیسے جانوں

تیری خود سے، میں تو سائیں

تم کو بھائے آتش پیالہ

نہ پانی نہ آنسو سائیں

میں ایک موتی، بوند یا مچھلی

تم ہو ساگر ساتوں سائیں

میں کملی اک ناری ترتک

رقصاں باندھ کے گھنگرو سائیں

جنگل، بیلے، دریا، پربت

جا جا تجھ کو ڈھونڈوں سائیں

کیوں نہ اپنے ماتھے لکھ لوں

ہِک تُو،ہِک تُو، ہِک تُو سائیں


کومل راجہ

No comments:

Post a Comment