تم تاروں کی چھاں مانگو
اور نہ چاند پکارو سائیں
نہ تم پھول کو جیب میں ٹانکو
نہ چاہو تم خوشبو سائیں
تیری رات کی مٹکی الٹی
سوکھے جام نہ دارو سائیں
نہ تم مانو ہستی مستی
کیا صوفی کیا سادھو سائیں
تیرے بھید میں کیسے جانوں
تیری خود سے، میں تو سائیں
تم کو بھائے آتش پیالہ
نہ پانی نہ آنسو سائیں
میں ایک موتی، بوند یا مچھلی
تم ہو ساگر ساتوں سائیں
میں کملی اک ناری ترتک
رقصاں باندھ کے گھنگرو سائیں
جنگل، بیلے، دریا، پربت
جا جا تجھ کو ڈھونڈوں سائیں
کیوں نہ اپنے ماتھے لکھ لوں
ہِک تُو،ہِک تُو، ہِک تُو سائیں
کومل راجہ
No comments:
Post a Comment